Disclaimer: This website is for informational purposes only and does not constitute an offer, solicitation, or sale of any property or investment.

بحریہ ٹاؤن راولپنڈی فیز 8 ایکسٹینشن کی تاریخ اور تجزیہ کا ایک سفر۔

کب حوالے کی جائیں گی۔ یہ سوسائٹی رنگ روڈ سے متصل ہونے کے باوجود اس وقت غیر ترقی یافتہ حالت میں ہے، جہاں تعمیراتی کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔ سائٹ پر محض چند مشینوں کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقیاتی مراحل مکمل ہونے میں ابھی کم از کم چار سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہے۔ یہاں تک کہ پوزیشن کے حوالے سے بھی کوئی قریبی امکان نظر نہیں آتا

Dr Imran Khan Director Roshan Marketing Ltd

2/8/20261 min read

بحریہ ٹاؤن فیز آٹھ ایکسٹینشن کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس کی ترقی کب مکمل ہوگی اور رہائشیں کب حوالے کی جائیں گی۔ یہ سوسائٹی رنگ روڈ سے متصل ہونے کے باوجود اس وقت غیر ترقی یافتہ حالت میں ہے، جہاں تعمیراتی کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔ سائٹ پر محض چند مشینوں کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقیاتی مراحل مکمل ہونے میں ابھی کم از کم چار سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہے۔ یہاں تک کہ پوزیشن کے حوالے سے بھی کوئی قریبی امکان نظر نہیں آتا۔

رنگ روڈ سے قربت کے باوجود فائدہ صرف اسی صورت میں میسر آئے گا جب سوسائٹی تک براہ راست رسائی کے لیے انٹرچینجز تعمیر ہوں۔ سروس روڈ کے ذریعے سیکٹر تین اور سات سے رابطہ ممکن ہوگا، جو کھسالہ انٹرچینج سے منسلک ہوگی۔ رنگ روڈ کی تعمیرتی سرگرمیاں تیز رفتار ہیں اور توقع ہے کہ دو ہزار چوبیس کے آخر تک یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔ اس کی تکمیل سے نہ صرف فیز آٹھ ایکسٹینشن بلکہ تمام قریبی سوسائٹیز کی قیمتوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فیز آٹھ ایکسٹینشن رہائش کے لیے موزوں ہے یا محض سرمایہ کاری کا ذریعہ؟ موجودہ حالات کے پیش نظر، جہاں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہیں، یہ سوسائٹی رہائش کے لیے قطعی مناسب نہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک دلچسپ موقع ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ قیمتیں گذشتہ عروج کے مقابلے میں کافی حد تک گر چکی ہیں۔

گذشتہ دہائی میں دو مواقع ایسے آئے جب اس سوسائٹی کی قیمتیں عروج پر تھیں۔ دو ہزار تیرہ سے چودہ اور دو ہزار اکیس کے دوران پانچ مرلے کے پلاٹ کی قیمت پینتیس سے اڑتیس لاکھ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ مگر اب مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد صورتحال یکسر مختلف ہے۔ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق پانچ مرلے کے پلاٹ اٹھارہ سے بیس لاکھ، آٹھ مرلے کے پلاٹ بائیس سے چھبیس لاکھ، دس مرلے کے پلاٹ تیس سے پینتیس لاکھ، جبکہ ایک کنال کے پلاٹ ترپن سے ساٹھ لاکھ روپے میں دستیاب ہیں۔

جن سرمایہ کاروں نے مہنگے داموں پلاٹ خریدے تھے، ان کے سامنے مشکل صورت حال ہے۔ مثال کے طور پر، جنہوں نے پانچ مرلے کا پلاٹ پینتیس لاکھ میں خریدا تھا، وہ اب اٹھارہ لاکھ میں بھی بیچنے میں دشواری کا شکار ہیں۔ ایسے سرمایہ کاروں کے پاس دو راستے ہیں: یا تو وہ قیمتوں میں بہتری کا انتظار کریں، یا پھر اپنے پلاٹ فروخت کر کے کسی بہتر سوسائٹی میں منتقل ہو جائیں۔ دوسرا آپشن زیادہ دانشمندانہ ہے۔

متبادل سوسائٹیز میں گلبرگ نمایاں ہے، جہاں پانچ مرلے کا پلاٹ ترقیاتی چارجز سمیت بائیس سے چوبیس لاکھ میں مل جاتا ہے۔ اسی طرح بلیو ورلڈ سٹی میں پوزیشن ایبل پلاٹ سولہ سے بیس لاکھ کے درمیان دستیاب ہے۔ فیصل ٹاؤن ٹو بھی ایک معیاری آپشن ہے، جہاں بیس لاکھ کے قریب پانچ مرلے کا پلاٹ مل سکتا ہے۔ ان سوسائٹیز میں منتقلی سے نہ صرف نقصان کم ہوگا بلکہ مستقبل میں بہتر منافع کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

ترقیاتی چارجز کے معاملے میں صورتحال تشویشناک ہے۔ پانچ مرلے کے پلاٹ پر آٹھ لاکھ، آٹھ مرلے پر گیارہ لاکھ، اور دس مرلے پر چودہ لاکھ روپے ترقیاتی چارجز مقرر ہیں۔ جو لوگ یہ چارجز بروقت ادا نہیں کر رہے، ان پر روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے چار فیصد جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ طویل مدتی عدم ادائیگی کی صورت میں بحریہ ٹاؤن پلاٹ منسوخ کرنے کا حق رکھتا ہے، جس کے بعد رقم کی واپسی مشکل ہو سکتی ہے۔

بحریہ اورچرڈ ایک اور متبادل ہے، جہاں پانچ مرلے کا ڈویلپڈ پلاٹ پینتیس لاکھ کے قریب مل سکتا ہے۔ یہاں ترقیاتی چارجز بھی شامل ہیں اور پوزیشن ملنے کے امکانات فیز آٹھ ایکسٹینشن سے بہتر ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے سب سے محفوظ حکمت عملی یہ ہے کہ وہ پوزیشن ایبل پلاٹ ہی خریدیں، کیونکہ غیر ترقی یافتہ علاقوں کے پلاٹوں میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

مارکیٹ میں مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، خاص طور پر پلاٹ نمبروں کے تبدیل ہونے کے حوالے سے۔ تمام اسٹیٹمنٹس پر "پروویژنل" کی اصطلاح درج ہونے سے صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ بحریہ ٹاؤن نے اس کی تردید کی ہے، مگر صورت حال ابھی واضح نہیں۔ سوسائٹی کے داخلی راستے پر فیز آٹھ ایکسٹینشن کا نام درج نہ ہونا بھی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

این او سی حاصل کرتے وقت تمام واجبات کی ادائیگی لازمی ہے۔ بیچنے والے کو تمام ڈیو قسطیں اور جرمانے ادا کرنے ہوں گے، تب ہی خریدار کے لیے صاف ستھرا پلاٹ دستیاب ہوگا۔ موجودہ مارکیٹ ریٹس میں یہ شرط پہلے سے شامل ہے۔

آخر میں، سرمایہ کاروں کو مشورہ ہے کہ وہ برانڈ کی محبت میں مبتلا ہونے کے بجائے عملی تجزیہ کریں۔ بحریہ ٹاؤن کے علاوہ بھی مارکیٹ میں معیاری سوسائٹیز موجود ہیں۔ جن کے پاس نقد رقم ہے، وہ پوزیشن ایبل پلاٹ خریدیں، جو ہمیشہ محفوظ سرمایہ کاری ثابت ہوتے ہیں۔ غیر ترقی یافتہ علاقوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرنا ہی دانشمندی ہے۔ ہر فیصلہ سے پہلے معاملے کا گہرائی سے جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔